
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے حکمرانی کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کیلئے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق منصوبے کے تحت ایک منتخب علاقائی حکومت کا قیام، اداروں کے مابین انتشار (ڈس انٹی گریشن) کا خاتمہ اور ایک مربوط ’’سمارٹ سٹی‘‘ ماڈل کی جانب پیشرفت شامل ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں خدمات کی فراہمی اور طویل المدتی شہری منصوبہ بندی بہتر بنائی جا سکے۔
’’آئی سی ٹی گورننس ماڈل‘‘ کے عنوان سے 138؍ صفحاتی رپورٹ منصوبہ بندی کمیشن کے وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے تیار کی، کیونکہ اس بات پر تشویش پائی جاتی تھی کہ اسلام آباد ایک منصوبہ بند انتظامی دارالحکومت سے بڑھ کر 24؍ لاکھ سے زائد آبادی والے بڑے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے، لیکن ادارہ جاتی ترقی اس رفتار سے نہیں ہو سکی۔
ہر ادارہ ایک پروفیشنل سربراہ کے تحت کام کرے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام ہوگا۔اصلاحات کا ایک اہم پہلو مربوط ڈیجیٹل گورننس نظام ہے، جس میں زمین و جائیداد کا انتظام، لائسنسنگ، ٹیکس، شناختی تصدیق، شکایات کا ازالہ اور خدمات کی نگرانی کیلئے یکساں پلیٹ فارم شامل ہوگا، تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ عملدرآمد کا منصوبہ پانچ سالہ مرحلہ وار طریقہ کار پر مشتمل ہے، جس میں ابتدا قانونی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں سے ہوگی، اس کے بعد اداروں کا قیام، ڈیجیٹل انضمام اور کارکردگی کا استحکام شامل ہوگا۔
یہ اصلاحاتی ایجنڈا قومی پالیسیوں جیسے “اڑان پاکستان”، ڈیجیٹل پاکستان پالیسی، قومی شہری پالیسی فریم ورک اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ اگر یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو وفاقی دارالحکومت کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی آئے گی اور اسلام آباد کو ایک جدید، مؤثر اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کے ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔
