
مصنف:صادق حسین
قسط:59
جنازیا نے سگریٹ کی راکھ جھاڑتے ہوئے کھنکار کر کہا ”ذرا رک جاؤ بابو جی۔“ اندر سے اجنبی قہقہے سنائی دے رہے تھے۔
”آج رات کے لئے بائی جی بُک ہیں۔“ جنازیا نے بڑی لاپرواہی سے تیر چھوڑا اور وہ تیر زہر میں بجھا ہوا تیر جیسے پرویز کے سینے میں پیوست ہو گیا ہو، پرویز کا دماغ کھولنے لگا۔
”ہٹو راستے سے“ پرویز نے انتہائی غصہ سے کہا اور پھر جنازیا کی ران پھلانگ کر صحن چی میں چلا گیا، جنازیا نے کوئی مدافعت نہ کی، پرویز نے کانچ کی نلیوں اور رنگ برنگ کے موتیوں کی جھالروں میں اندر دیکھا تو پاؤں تلے کی زمین نکل گئی، تن بدن میں آگ لگ گئی، ششی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی،، وہ قریب قریب برہنہ تھی وہ صرف پیٹی کوٹ پہنے ہوئے تھی جو بائیں طرف سے پھٹا ہوا تھا اور اس کی بائیں ران کی چمکتی ہوئی جلد صاف نظر آ رہی تھی۔ حد سے زیادہ شراب پی لینے کی وجہ سے اسے اپنی سدھ بندھ نہ تھی سر کے بال بکھرے ہوئے تھے بوجھل پپوٹوں تلے آنکھیں کھولنا دشوار ہو رہا تھا ہچکی لگی ہوئی تھی، اس نے دونوں باہیں دیوار پر پھیلا کر اپنے پاؤں کو جھٹکا، گھنگرو بج اٹھے۔
”مجرا ہو جائے پیاری الماس“ کسی مرد کی آواز آئی۔
ششی نے آنکھیں پھاڑ کر ادھر اُدھر دیکھا، اس کے سامنے پانچ چھ مرد چاندنی پر بیٹھے شراب پی رہے تھے، ان کے قریب ہی ششی کی نارنجی رنگ کی ریشمی ساڑھی پڑی ہوئی تھی، سارنگی نواز نے طبلہ نواز کی طرف دیکھتے ہوئے ایک آتشیں لے چھیڑی، ششی نے سرمستی کے عالم میں ایک بول الاپا، دو چار بے تکے قدم لے کر گھنگروؤں کا بے ہنگم شور پیدا کیا، پھر وہ نرت بھاؤ دکھاتی ہوئی ہنس پڑی۔
قہقہے پھر بلند ہوئے۔
پرویز بجلی کی سی تیزی کے ساتھ سیڑھیوں سے نیچے اترا اور ایک تانگہ پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ ”کہاں چلو گے بابو جی؟“ تانگے والے نے پوچھا۔
”ماڈل ٹاؤن۔“
سڑک کے دونوں طرف برقی قمقمے گھومتے ہوئے دکھائی دینے لگے، ٹریفک کا شور کانوں کے پردے پھاڑنے لگا، زندگی میں پہلی بار اس نے جیتے جی اپنے آپ کو آگ میں جلتے ہوئے محسوس کیا جیسے اس کی رگ رگ پر دہکتے ہوئے انگارے رکھ دیئے ہوں، جیسے وہ سوچنا چاہتا ہو اور کچھ نہ سوچ سکتا ہو، سمجھنا چاہتا ہو اور کچھ نہ سمجھ سکتا ہو، ہیرا منڈی کی حدود سے باہر نکلنے تک نغمہ و ساز کے شعلے لپک لپک کر اس کے کانوں کو جھلستے رہے جیسے اس کی روح میں زلزلہ آ گیا ہے، جیسے اعتبارات کے مرغزاروں میں آگ لگ گئی ہو، خوابوں کے محل اڑاڑ کر گر پڑے ہوں۔
”نسبت روڈ۔“ اس نے دفعتہ چلا کر کہا۔
تانگہ والے نے باگ کھینچ لی، اس نے گھور کر پرویز کی طرف دیکھا اور پھر تانگہ موڑ کر باگ ڈھیلی چھوڑ دی، گھوڑا دلکی چلنے لگا، نسبت روڈ پہنچ کر اس نے تانگے والے کو پیسے دیئے اور پھر سیدھا اختر کی بیٹھک میں چلا گیا، خلاف معمول اختر تنہا تھا۔ پرویز کو دیکھتے ہی تعظیماً کھڑا ہو گیا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
