
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسمان پر ایک غیر معمولی فلکیاتی منظر اگلے برس دنیا کے مختلف خطوں میں دیکھا جائے گا، جب 2 اگست 2027 کو 21ویں صدی کا طویل ترین مکمل سورج گرہن رونما ہوگا۔ پاکستان بھی اس موقع پر گرہن کا مشاہدہ کرسکے گا، تاہم یہاں یہ مکمل نہیں بلکہ جزوی ہوگا۔
نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق اس سورج گرہن کے دوران چاند سورج کی پوری قرص کو ڈھانپ لے گا اور مکمل گرہن والے علاقوں میں دن کے وقت چند منٹ کے لیے رات جیسی تاریکی چھا جائے گی۔ مکمل گرہن کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 6 منٹ 23 سیکنڈ تک رہنے کی توقع ہے۔
اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق میڈرڈ میں سورج کا تقریباً 86 فیصد، رباط میں 98 فیصد، الجزائر اور طرابلس میں تقریباً 99.9 فیصد جبکہ قاہرہ میں سورج کا تقریباً 95 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔
مکمل سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آکر سورج کی پوری قرص کو عارضی طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ مکمل گرہن کے دوران آسمان تاریک ہوجاتا ہے اور سورج کی بیرونی فضا، جسے ’کورونا‘ کہا جاتا ہے، نمایاں ہوسکتی ہے۔
