مصنف:شہزاد احمد حمیدقسط:484اکیڈمی کا جھنڈا اور نشان؛ساری دنیا میں اکیڈمیز کا اپنا جھنڈا اور نشان(insignia) ان کی شناخت ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے64 سال سے کسی نے

مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:484
اکیڈمی کا جھنڈا اور نشان؛
ساری دنیا میں اکیڈمیز کا اپنا جھنڈا اور نشان(insignia) ان کی شناخت ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے64 سال سے کسی نے بھی اس طرف دھیان نہ دیا تھا۔ میرے ذھن میں اکیڈمی کے نشان کا ایک آئیڈیا آیا جو میں نے دوستوں سے شئیر کیا اور ان سے مشورے کے بعد ڈیزائین کو حتمی شکل دیا اور پھر پنی بھانجی ”رحما خلیل“ (یہ عمدہ آرٹسٹ۔ اس نے فیشن ڈیزائین میں لاہور کے معروف کالج ”لاہور فیشن سکول“ سے ماسٹرز کر رکھا ہے اور آج کل ایک معروف برانڈ سے منسلک ہے نے میرے آئیڈیا کو رنگوں سے بھر دیا۔ اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے اور بہت سی خوشیاں دے۔ آمین) سے کہہ کر اس ڈیزائن کو عملی شکل دی۔ یہ ڈیزائن سیکرٹری بلدیات مسعود چوہدری کو دکھا یا تو انہوں نے فوری منظوری دے دی اور ہماری اس کاوش کو خوب سراہا تے کہا”یہ پہلا موقع ہے کہ 60 سالوں میں ان بنیادی باتوں کی طرف تو جہ دی گئی ہے۔“
یہ نشان دراصل چڑھتے سورج کی شعاعیں بکھر رہی تھیں اور ان شعاعوں میں 3 الفاظ ابھر رہے ہیں؛ تربیت علم۔کردار۔ مہارت ابھر رہے تھے۔درمیان میں حکومت پنجاب کا مونو گرام تھا۔اس میں علم سے مراد وہ علم جو ہم یہاں آنے والے کو سکھاتے اور بتاتے تھے۔ کردار سے مراد لوگوں کی خدمت اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں کردار کی پختگی اور مہارت سے مراد مقامی حکومت کے اداروں کے حوالے وہ مہارت مہیا کرنا تھا جس سے یہ اپنے مقامی مسائل حل کر نے کے قابل ہو سکیں۔ اکیڈمی کے جھنڈے کے لئے سبز رنگ پر یہ نشان ٹانک دیا گیا اور اس کے وسیع لان میں جھنڈا لہرانے کے لئے 20 فٹ اونچا پول لگوایا گیا اور اکیڈمی کی مین انٹرنس پر بھی 2 پول لگوائے گئے۔ یقین کریں ان چھوٹی چوٹی تبدیلیوں کے بڑے کمال نتائج برآمد ہوئے اور اکیڈمی grandeur لک دینے لگی تھی۔
پہلی بریفنگ؛
اسی دوران پورے سال کا تربیتی کیلینڈر بھی ترتیب پا چکا تھا۔ جس میں سال کے چالیس(40) ہفتے کے مختلف کیڈرز کے تربیتی پروگرام شامل تھے جن میں گلگت بلتستان کے مقامی حکومت کے افسران کی 24 ہفتے کی 3 بیجز میں تربیت بھی شامل تھی۔ سیکرٹری بلدیات نے اس کی بھی منظوری دے دی۔ سیکرٹری بلدیات کو اکیڈمی کے حا لات اور آئندہ کے تربیتی روگرامز کے حوالے سے پہلی بریفنگ چارج سنبھالنے کے ایک ماہ بعد دی۔ گھنٹہ بھر کی بریفنگ میں انہوں نے ہر پلان کی منظوری دی اور ساتھ ہی نئی بلڈنگ کا نقشہ اگلے 15دن میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
اکیڈمی کے حالات؛
چیف آرکیٹیکٹ ایک سمجھ دار خاتون تھیں۔ انہوں نے نقشہ تیار کیا۔سیکرٹری بلدیات نے نقشہ چند تجاویز کے ساتھ منظورکر دیا اور اربن یونٹ کے انچارج ڈاکٹر ثاقب کو اکیڈمی کے وزٹ کی درخواست بھی کر دی۔اکیڈمی کی بڑی بڑی راہداریوں اور آڈیٹوریم میں قائد اعظم، علامہ اقبال اور سر سید احمد خاں کی کی دیو ہیکل تصاویر لگوائیں اس سے ان راہداریوں کی شکل ہی بدل گئی۔خالی اسامیوں پر بھرتی خالصتاً اہلیت کی بنیاد پر کی۔ نہ کسی کی پر چی کسی کے کام آ ئی۔ خالی اسامیاں پرُ ہوئیں تو ان شعبہ جات میں واضح تبدیلی بھی نظر آ نے لگی۔ سرسبز لانز میں زندگی لوٹ آئی۔ باورچی آنے سے کھانے کا معیار بہتر ہوا اور چیف کک وسیم تو کمال کھانا بناتا تھا۔ ان لوگوں کے آنے سے بون فائر اور بار بی کیو کا خیال بھی ذھن میں اتر چکا تھا۔ مالی کی بھرتیوں میں ایک امیدوار کی چپل میں کئی سوراخ تھے اور اس روز وہ کرائے کے 100روپے کسی سے ادھار لے کر آیا تھا۔اس میں ایک اچھے مالی کی سبھی خصوصیات تھیں۔ اسے بھرتی کرکے دل کو جو سکون ملا وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔سیکرٹری بلدیات کی نمائندہ سکیشن افسر(ون) محترمہ سارہ ایک شاندار خاتون تھیں۔ جتنی خوبصورت اتنی ہی رحم دل بھی۔ باورچیوں کا امتحان انہوں نے ہی لیا تھا کہ خود بھی وہ عمدہ کک تھیں۔ ڈرائیورز کا امتحان 2 مرحلوں میں تھا۔ ایک تحریری جس میں روڈز سائین کے بارے میں سوالات تھے اور دوسرا عملی جس میں گاڑی کو ریورس کرکے مخصوص جگہ پارک کر نا شامل تھا۔بس ایک بار ریورس گئیر لگا دیا تو پھر اسے disengage نہیں کر سکتے۔میرے عزیز دوست مشتاق کا بیٹا طلعت اس ٹیسٹ میں فیل ہوا اسے نوکری نہ مل سکی جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ بہترین ڈرائیور زکا چناؤ ہوا۔زندگی کبھی ایسے موڑ پر لے آتی ہے کہ چیزیں آپ کے اختیار میں ہوتے ہوئے بھی بے بسی عود کر آ تی ہے۔ دل کی بات نہ مان کر دکھ ہوتا ہے لیکن حق کی بات کا ساتھ یہ بوجھ کم کر دیتا ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
