مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:352لوکل گورنمنٹ کی اہمیتایک عام شہری کو بھی دنیا بھر میں معلوم ہے کہ عوامی مسائل کا حل لوکل سطح پر لوکل گورنمنٹ کے میونسپل

مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:352
لوکل گورنمنٹ کی اہمیت
ایک عام شہری کو بھی دنیا بھر میں معلوم ہے کہ عوامی مسائل کا حل لوکل سطح پر لوکل گورنمنٹ کے میونسپل اداروں اور جمہوریت کو مضبوط مستحکم بنانے سے کیا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران سب کے سب لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور جمہوریت کو کمزور تر کرنے میں لگے رہے ہیں۔
وراثتی خاندانی پارٹیاں اور بے مقصد سیاسی قیادت
ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کے چہرے بھی پاکستانی عوام کو اچھی طرح یاد ہیں جنہوں نے گزشتہ50 سالوں میں کوئی بڑا ڈیم اور سستی بجلی بنانے کی طرف توجہ نہیں دی، جنہوں نے بار بار سیلابوں کے باعث انسانی جان و مال کی بربادی اور اقتصادی تباہی کے باوجود کالا باغ ڈیم بنانے پر اتفاق نہیں کیا، جنہوں نے پانی اور کوئلے اور ہوا سے سستی بجلی بنانے کی بجائے آئی پی پی ایز کے ساتھ پٹرول سے مہنگی بجلی بنانے کے معاہدے صریحاً قومی مفاد کے خلاف کئے جو عوام الناس کی زندگیوں کو اجیرن بنانے اور ہماری زراعت اور صنعت کا پہیہ چلانے میں ناکامی کا باعث بنے ہیں، ایسے حکمران خاندان جنہوں نے وطن عزیز کو صنعت و حرفت میں کمال حاصل کئے بغیر ہی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے اور پاکستان کی ایکسپورٹس اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کئے بغیر ہی جتنا کوئی چاہے زرمبادلہ ملک سے باہر لیجانے کے احمقانہ فیصلے کئے ہیں جو پاکستان جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کے عوام کومہنگائی، بے روزگاری، پسماندگی سے دوچار کرنے اور وطن عزیز کو دیوالیہ پن کے قریب تر پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔ وراثتی خاندانی لیڈر شپ پاکستان میں سالہا سال تک حکمران رہنے کے باوجود تعلیم، صحت، زراعت، انصاف، پولیس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں ضروری اصلاحات کر کے بہتری پیدا کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ ایسے میں ہمارے سادہ لوح عوام کے لیے دور بینی و دور اندیشی، حقیقی بصیرت و بصارت اور عوام دوستی سے عاری حکمرانوں کی خوشامد و پذیرائی اور غلامی مزید جاری رکھنے کا کوئی عقلی جواز نظر نہیں آتا۔ اللہ کرے پاکستانی قوم جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کہنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہوئے آئندہ پاکستان کے لیے باصلاحیت و باکردار اور علم و فضل سے بہرہ ور محب وطن قیادت کا انتخاب کرے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم کے مطابق ہم اپنے مقاصد کی آدھی جنگ قیادت کے صحیح انتخاب کے ساتھ پہلے مرحلے میں ہی جیت لیتے ہیں۔
پاکستان سٹیزن کونسل کی مساعی
مذکورہ بالا احساسات اور خدشات اور پاکستان کے صرف اقتصادی مسائل کے حل کے ضمن میں سٹیزن کونسل نے جن موضوعات پر سیمینارز، لیکچرز اور فکری مجالس برپا کی ہیں ان کا خاکہ درج ذیل ہے: تفصیل نہیں، صرف موضوعات اور مقررین کے نام دئیے جا رہے ہیں۔
1:سیمینار: ”عوام کے لیے خدمات، تعلیم اور صحت کی سہولیات“۔
مورخہ: 29 جون 2007ء
مہمان خصوصی:فاطمہ جناح میڈیکل کالج برائے خواتین کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد اکبر چوہدری۔
مقررین میں ڈاکٹر محی الدین، ڈاکٹر ایم اے صوفی، ڈاکٹر اویس فاروقی، پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری، پروفیسر شکیلہ رشید اور پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری شامل تھے۔
2:سیمینار: ”پاکستان کی تعمیرنو میں سول سوسائٹی کا کردار“
مہمان خصوصی: عبوری حکومت کے وزیر قانون سید افضل حیدر۔
مقررین میں پروفیسر مجاہد منصوری، ظفر علی راجا، رانا امیر احمد خاں اور سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید احمد قریشی شامل تھے۔
3:سیمینار: ”عام آدمی کی کفالت اور خوشحالی کیسے ممکن ہے“
مورخہ: 4 اگست 2008ء
چیف گیسٹ: چیئرمین پلاننگ اینڈ ایولیوشن حکومت پنجاب جناب حامد جلیل، مقررین میں اقوام متحدہ کے ادارے ایکارڈافرو الیشین ریجن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجینئر اختر علی رانا، انجینئر لیاقت ربانی، میجر صدیق ریحان، محمد رمضان میو، مہرصفدر علی اور صدر کونسل رانا امیر احمد خاں شامل تھے۔
4:سیمینار: ”پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے کا نسخہ“
مہمان مقرر: پروفیسر ڈاکٹرنیازاحمد خاں ایف آر سی ایس
4:سیمینار: ”شعبۂ زراعت کی قومی معیشت میں اہمیت اور کردار“
مہمانِ خصوصی: صوبائی وزیر زراعت جناب ڈاکٹر فرخ جاوید۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
