پیدل حرم کعبہ کی جانب جو قدم اُٹھنے لگے تو دلوں کی کیفیت ہی بدل چکی تھی، قدم بڑھتے جاتے تھے، دعا مانگتے رہے، آگے سر جھکائے جا رہے تھے

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط:105روانگی کا دن آیا تو غسل کر کے احرام باندھا اور 2نفل احرام کے پڑھے اور عمرہ ادا کرنے کی نیت کرتے ہوئے 3 مرتبہ تلبیہ پڑھا۔پھر درود شریف

سافٹ ویئر Apr 3, 2026 IDOPRESS

مصنف: ع۔غ۔ جانباز


قسط:105


روانگی کا دن آیا تو غسل کر کے احرام باندھا اور 2نفل احرام کے پڑھے اور عمرہ ادا کرنے کی نیت کرتے ہوئے 3 مرتبہ تلبیہ پڑھا۔


پھر درود شریف پڑھتے ہوئے جہاز میں سوار ہوگئے۔


جہاز میں میزبانوں نے حسب ہدایت خاطر مدارت جاری رکھّی اور سبھی زائرین تلبیہ پڑھنے میں مشغول رہے۔ جہاز مقررّہ وقت پر جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ جہاز سے اُترے تو وہاں سعودی حکومت کی طرف سے لائسنس یافتہ متعلقہ ”کفیل“ پہلے ہی محوِ انتظار تھا۔ لہٰذا ہمارے گروپ کو بسّوں میں بٹھایا اور عازم مکہ مکرمہ ہوئے او وفور شوق میں ہر کوئی تلبیہ پڑھتا خانہ کعبہ کی زیارت کی تڑپ لیے رواں دواں تھا۔ حرم پاک سے کوئی آدھا کلومیٹر اِدھر رہائش گاہ پر لے جایا گیا اور سارا سامان وہاں رکھ کر پیدل حرم کعبہ کی جانب جو قدم اُٹھنے لگے تو دلوں کی کیفیت ہی بدل چکی تھی۔ قدم بڑھتے جاتے تھے لبوں پر تلبیہ جاری رہا اور دعا مانگتے رہے۔ آگے سر جھکائے جا رہے تھے۔


حرم پاک میں کفیل نے اپنی سرکردگی میں وہاں طواف کروایا اور مقام ابراہیم پر نفل نمازیں پڑھیں۔ آب زم زم پیا، دعائیں مانگیں اور پھر کفیل کی معیّت میں صفا مروہ کی سعی کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں صفا مروہ کے 7 چکر کلمۂ توحید پڑھتے لگائے اور اس طرح عمرہ ادا کرنے کے بعد واپس اپنی رہائش گاہ پر چلے گئے۔


”ہمارے گروپ“ میں 12 زن و مرد تھے۔ اُن دنوں کھانے پکانے کا بندوبست خود ہی کرنا ہوتا تھا۔ کھانا پکانے کا سارا سامان پاکستان سے ہی لے کر گئے تھے۔ لہٰذا جواں عورتیں سالن تیار کرلیتیں اور بازار سے روٹیاں لے آتے اور کھا لیتے۔ سامنے بازار تھا ہر قسم کی اشیاء وہاں دستیاب تھیں۔ اُن دنوں سیب اور مرغی وہاں پاکستان کے بھاؤ میں مل رہی تھی۔ لہٰذا آپ ہر پاکستانی کو دیکھئے کہ سیب کا لفافہ پکڑے آرہا ہے اور ساتھ ایک عدد مرغی بھی تھامے ہوئے ہے۔


7 ذوالحجہ کو حج کے لیے تیّاری شروع کی۔ مختصر سامان تیّار کیا۔


8 ذوالحجہ کو غسل کر کے احرام باندھ کر رہائش گاہ سے کفیل کی سرکردگی میں حج کی نیت کر کے روانہ ہوگئے اور تلبیہ پڑھا اور درود شریف پڑھا اور دعا مانگی۔ سارا سفر پیدل ہی تھا۔ یاد رہے پہلے ایک سرنگ سے گزرے۔ جس میں بڑے بڑے پنکھے لگے ہوئے تھے اور بڑے زور کی ہوا پھینک رہے تھے۔ اس طرح چلتے چلتے آخر منیٰ میں اپنے خیموں میں جا پہنچے۔ وہاں ظہر عصر مغرب عشاء اور پھر 9 ذوالحجہ کو فجر کی نماز ادا کی۔ خیموں کے ساتھ خوردو نوش کی دوکانوں کی ایک قطار تھی۔ دو ریال میں پلاؤ کی پلیٹ مل جاتی جس میں چکن کا ایک کافی بڑا پیس ہوتا۔


9 ذوالحجہ …… منیٰ سے میدان عرفات کو روانگی جو کہ حج کا رکن اعظم ہے۔ بلند آواز سے تلبیہ پکارتے عرفات کو روانگی، وہاں امام صاحب کی امامت میں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھیں۔ ہر نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھتے رہے۔


سورج غروب ہونے تک عرفات میں کھڑے ہو کر دعائیں مانگتے رہے۔ گریہ زاری کرتے رہے، توبہ استغفار کرتے رہے، بار بار تلبیہ پکارتے رہے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوئے۔ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت ادا کیں۔ رات کو وہاں سے کنکریاں اکٹھی کیں۔ صبح کی نماز اول وقت میں پڑھ کر سورج طلوع ہونے سے تھوڑی دیر پہلے کھڑے ہو کر دعائیں مانگیں۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں