واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ہر بار کسی دستاویز پر بات کرنے کے لیے 18 گھنٹے کی طویل پروازیں کرنا ممکن نہیں، اس

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ہر بار کسی دستاویز پر بات کرنے کے لیے 18 گھنٹے کی طویل پروازیں کرنا ممکن نہیں، اس لیے آئندہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے۔‘
بی بی سی اردو کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ناسا کے ’آرٹیمس دوم‘ مشن پر جانے والے چار خلابازوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے وہاں موجود صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’میں آمنے سامنے ملاقات کو پسند کرتا ہوں، مگر جب ہر ملاقات کے لیے 18 گھنٹے سفر کرنا پڑے اور روانہ ہونے سے پہلے ہی معلوم ہو کہ وہ ایک ایسی دستاویز دیں گے جو آپ کو پسند نہیں آئے گی تو یہ عملی نہیں رہتا۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ’کافی پیش رفت کی ہے،‘ تاہم انھوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران اتنا آگے جائے گا بھی یا نہیں جتنا امریکہ چاہتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کسی بھی صورت میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس بات پر متفق نہ ہوں کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔‘
ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہ آیا یہ کارروائی کئی ماہ تک جاری رہے گی صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ تہران کو ’فوجی لحاظ سے شکست‘ دی جا چکی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب انھیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، بس اتنا ہی کرنا ہے کیونکہ اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اب اُن کے پاس بس اتنا ہی کہنا رہ گیا ہے کہ ہم ہار مانتے ہیں اور دستبردار ہوتے ہیں۔‘
