
مصنف:اللہ دتہ نجمی
قسط:24
یک نہ شد دو شد
پنجاب یونیورسٹی میں ہمارا پہلا دن تھا۔ تعارفی سیشن میں شعبہ معاشیات کے چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد کا علم و حکمت پر مبنی درس ہمارے دل و دماغ کی اضافی فعالیت کے لئے ایک کامیاب ملمع کاری تھا۔ جب اُنہوں نے اچانک لاہور شہر سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس کو کھڑا ہونے کا حکم دیا تو پانچ چھ سٹوڈنٹس (لڑکے اور لڑکیاں) لبوں پہ انجانی سی مسکراہٹ سجائے اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ باری باری اُن سے اُن کی جائے رہائش کے بارے میں پوچھنا شروع کیا تو ایک لڑکے نے کہا،”سر! میں سمن آباد سے ہوں“۔ فوراً بولے، ”آپ کب سے لاہورئیے ہو گئے؟ سمن آباد تو ابھی کل آباد ہوا ہے“۔ دراصل وہ لاہور کے 13دروازوں کی حدود میں بسنے والوں کے علاوہ کسی اور کو لاہوریا ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ اُس علاقے کو لاہور تصور کرتے تھے جس پر سعادت حسن منٹو نے افسانے اور استاد دامن نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم ”دس کھاں شہر لہور اندر“لکھی تھی۔
دس کھاں شہر لہور اندر
کنے بوہے تے کنیاں باریاں نیں
نالے دس کھاں اوتھوں دیاں اِٹاں
کنیاں ٹٹیاں نے تے کنیاں ساریاں نیں
استاد دامن اور اُن کی اِس نظم کو جہاں گلوکارہ جگموہن کور نے منفرد انداز اور خوبصورت آواز میں گا کر امر کیا، وہیں لاہور شہر کی ہمہ جہت خوبیوں کو مزید نکھار بخش دیا۔
ابھی ہم اپنے ذہن کو یونیورسٹی کے خوشگوار ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے ابتدائی مرحلے میں ہی تھے کہ ڈاکٹر رفیق احمد صاحب وائس چانسلر بن کر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سدھار گئے۔ ڈاکٹر صاحب کی جگہ مسز اے آر چوہدری نے بطور چیئرمین، شعبہ معاشیات ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ وہ بہت خوش پوش اور خوش گفتار تھیں اور ان کی قابلِ رشک صحت دیکھ کر گمان گزرتا تھا کہ وہ خوش خوراک بھی ہیں۔ ہمارے سینئر طلباء نے اُن کے بارے میں ہمیں مطلع کر رکھا تھا کہ وہ بہت بااصول، انتہائی باوقار اور بے بہا دبنگ خاتون ہیں۔ صنفِ نازک سے تعلق ہونے کے باوجود ایڈمنسٹریشن اور بحث و مباحثہ مردانہ وار کرتی ہیں۔ پُر رعب بھی ہیں اور نرم خُو بھی۔ ایک دن ہمارے ایک کلاس فیلو اسلم نے اُن سے پوچھا، ”میڈم، اِف یو ڈونٹ مائنڈ، میں آپ سے ایک پرسنل سا سوال پوچھ سکتا ہوں“ میڈم نے اجازت دے دی۔ اسلم کہنے لگا،”میڈم! کیا آپ کا نام اللہ رکھی چوہدری ہے؟“ میڈم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ”نہیں بھئی! میرا نام تو امت الرزاق چوہدری ہے“۔ ایک دفعہ کچھ طلباء میڈم کے ٹیسٹ میں appear نہ ہوئے۔ میڈم نے نستعلیق انگریزی میں اُن کی اچھی خاصی درگت بنا ڈالی۔ کلاس کے بعد صابر دوستو ں سے کہہ رہا تھا، ”یار میڈم نے جنیاں گلاں کیتیاں نیں، اینہاں دا ترجمہ کرئیے تے ساڈی چنگی بھلی بے عزتی ھوئی اے۔۔۔“
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
