ابا اب اطمینان سے اخبار پڑھا کرتے، ہر ایک سے پیار سے پیش آتے، ریڈیوپر ریکارڈ بجتا تو گانے کے ہر بول پر داد دیتے  بڑی دیر تک سر دھنتے رہتے

عی Aug 25, 2026 IDOPRESS

مصنف:صادق حسین


قسط:62


خوشبو کی نیند


پرویز کے ابا اب اطمینان سے آرام کرسی پر لیٹے لیٹے اخبار پڑھا کرتے، ہر ایک سے بڑے پیار سے پیش آتے، بات بات پر مسکرا دیتے، ریڈیو گرام پر جب ریکارڈ بجتا تو گانے کے ہر بول پر داد دیتے اور بڑی دیر تک سر دھنتے رہتے، گو بھائی کی جدائی کا غم بڑا گہرا تھا، مگر گھریلو زندگی کے سلجھاؤ سے زخم خودبخود مندمل ہونے لگا، بڑی آپا نچلی نہ بیٹھتی، اماں کو بہو تلاش کرنے کا مشغلہ دن بھر مصروف رکھتا، دن میں ایک آدھ دفعہ ماں بیٹی کھسر پسر میں لگ جاتیں اور پھر زینت کا نام لے کر چپکے چپکے آنسو پونچھ لیتیں، اور پھر ایک رات زینت کے گھر سے ڈھولک بجنے کی آواز آئی اور کسی لڑکی کی سریلی آواز فضاؤں میں بلند ہو کر پرویز کے گھر میں گونج اٹھی، اماں نے رو رو کر تکیہ بھگو ڈالا آپا کی آنکھوں کے سامنے اپنی تایا زاد بہن اور سہیلی کا چہرہ ابھر کر کمرے کے وحشت ناک خاموشی میں زہر گھولنے لگا، ابا جان نے کروٹ بدل کر ایک آہ بھری، اور پرویز نے پلنگ پر لیٹے لیٹے کھلی کھڑکی میں سے زرد چاند کی طرف دیکھا شفاف آسمان پر ادھر ادھر تارے جھلمل جھلمل کر رہے تھے، یکایک ایک ستارہ ٹوٹ کر آسمان کی وسعتوں میں کھو گیا، ڈھولک کی دھمک اور کنکر کی ٹک ٹک تیز ہو کر رس بھری آواز کے شانہ بشانہ صوتی حسن بکھیرنے لگی، پرویز نے کھڑکی بند کر دی مچھر دانی کے پردے گرا دیئے، روشنی بجھا کر آنکھیں موند لیں تاکہ گھپ اندھیرا چاروں طرف پھیل جائے اور روشنی کی ایک کرن بھی اس تک نہ پہنچ سکے اور پھر دوسرے دن زینت کے گھر میں بلا کی چہل پہل تھی، کاروں کی آمدورفت، کمخواب واطلس کے ملبوسات، بنے سنورے نسوانی چہرے، ریکارڈ بجنے کی آوازیں، مردوں اور عورتوں کے ملے جلے قہقہے، مہندی میں رچے ہوئے ہاتھوں کی جھلک، رنگ برنگ کے دوپٹوں سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے بھاری چوٹیوں کے موباف، طلائی گہنوں کی چمک سینٹ کی بھینی بھینی مہک سب نے مل جل کر زینت کے گھر میں اچھا خاصہ میلہ لگا دیا تھا اور پھر دوپہر کے بعد وہ رونق، وہ گہما گہمی، وہ رنگ و بو کی آمد ایک سناٹے میں بدل گئی، زینت پالکی میں چپ چاپ بیٹھ گئی، اس کی ماں دھاڑیں مار مار کر روئی۔ اس کے باپ کے آنسو تھے کہ تھمنے میں نہ آتے تھے۔ ہر شخص رویا مگر زینت کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہ نکلا، حسب روایت گھونگھٹ کاڑھے ہوئے، کسی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر زینت کو جھکے جھکے آہستہ آہستہ چل کر پالکی تک جانا تھا، مگر وہ تن کر چلتی ہوئی پالکی میں جا بیٹھی، اس کے چہرے پر خوشی کی لہر تھی نہ غم کی، پر اس کی آنکھیں کہے دیتی تھیں کہ انسان جیتے جی مر جاتا ہے، میں آج مر رہی ہوں میں آج نہیں روؤں گی۔ میری آنکھوں کی ندیاں سوکھ گئیں ہیں۔ اور پھر شہنائیوں کی آوازوں کے بیچ جب اس کی پالکی چچا کے گھر کے سامنے سے گزری تو اس نے پردے کی اوٹ سے بند کھڑکی کی طرف دیکھا اور اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کھڑکی کی جھری میں سے پرویز کی نگاہیں اس کا تعاقب کر رہی ہیں اور پرویز کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب اُمڈ رہا ہے تو شاید زینت کے دل کو لمحہ بھر کے لئے تسکین مل جاتی، شاید اس کے انگ انگ میں چنگاریاں بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بدل جاتیں، وہ غمناک آنکھوں سے بند کھڑکی کی طرف دیکھتی ہوئی آگے نکل گئی۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں