
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے ایران کے سفیر رضا امیری مقدم اور افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی گئی۔
ملاقاتوں میں مرحوم کی دینی، سیاسی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، جبکہ سوگوار خاندان، جماعتِ اسلامی کی قیادت اور کارکنان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔ دونوں ملاقاتوں میں جماعتِ اسلامی کے ڈائریکٹر امورِ خارجہ آصف لقمان قاضی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پاک، ایران اور پاک افغانستان تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال، غزہ، لبنان اور افغانستان سمیت علاقائی امن، امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایرانی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر اسلامی ممالک ہیں جو ایک جان، دو قالب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کو معمولی اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی تعاون، اقتصادی روابط کے فروغ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایران، غزہ اور لبنان میں فوری، مکمل اور مستقل جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری رہے گا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔مسلم ممالک کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے کیونکہ اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات سے صرف دشمن قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ جارحانہ پالیسیوں کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی ایرانی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
رضا امیری مقدم نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مفاہمت اور تعاون خطے کے امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ خطے کے مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور آبنائے ہرمز، غزہ اور لبنان میں جنگ بندی سمیت اہم علاقائی معاملات پر پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
افغان سفیر سے ملاقات میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات پورے خطے کے امن اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔ باہمی اعتماد، احترام اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تمام اختلافات ختم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مسلم ممالک کو اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دے کر امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ مقابلہ کرنا چاہیے۔ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور مثبت روابط خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے افغان عوام کے لیے پاکستان کے مختلف ادوار میں کیے گئے تعاون کو سراہا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
دونوں ملاقاتوں کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد، باہمی احترام، علاقائی امن و استحکام، اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
