
لاہور (جاوید اقبال سے)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حکومت مخالف مؤقف اور تحریک انصاف کے ساتھ بڑھتے سیاسی رابطوں کے تناظر میں ملک کی سیاست میں نئی ہلچل کے امکانات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر مولانا کی ممکنہ گرفتاری، احتساب اور اہلِ خانہ کے اثاثوں کی جانچ پڑتال سے متعلق دعوے گردش کر رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی گرفتاری کے کسی حتمی حکومتی فیصلے کی مستند اطلاع سامنے آئی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر حکومت اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان محاذ آرائی مزید بڑھی تو اس کے سیاسی نتائج کیا ہوں گے؟ مولانا حالیہ ہفتوں میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کے کردار میں بھی سامنے آئے تھے، تاہم خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر اختلافات کے بعد انہوں نے حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔
ان کے استقبال کے لیے اور شہباز شریف صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف نیلا گنبد کہ کرب و جوار میں گاڑی میں گھومتے رہے تو مولانا صاحب کو ہوش اور فہم و فراست سے کام لینا چاہیے ٹیبل ٹاک کی طرف انا چاہیے نہ کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو دھمکیوں میں وقت ضائع کرنا چاہیے
