
مصنف: یاسمین پرویز
قسط:6
اولاد اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت غیر مترقبہ ہے جسے پا کر ماں باپ نہال ہو جاتے ہیں۔ اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ہمارے چاروں طرف رنگ و نور کی برسات برس رہی ہو اور انسان اپنے آپ کو ہواؤں کے دوش پہ اڑتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ مگر کبھی کبھار جب حادثاتی طور پر یکدم انسان اِس نعمت خداوندی سے محروم ہو جائے تو یوں لگتا ہے جیسے فضاؤں سے آگ برسنے لگی ہو، جس نے روح تک کو جھلسا کر رکھ دیا ہو۔ جدائی کا زخم بڑا گہرا ہوتا ہے۔
میرا بھتیجا سلیمان بابر، 28 برس کی عمر میں، جب حادثاتی موت کا شکار ہوا تو سارے خاندان کو جس کرب اور اذیت سے گزرنا پڑا، وہ کسی قیامت سے کم نہیں۔ ایسے میں غالب کا یہ شعر شاید میرے جذبات کی ترجمانی کر سکے۔
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا بھی ہو گا کوئی دِن اور
ابھی تو اُس کے سہرے کے پھول کھلنے تھے، مگر اِن آنکھوں کو کفن میں لپٹا اُس کا سراپا دیکھنا پڑا۔ آہ نشے کی عِلّت میں گرفتار ایک راہرو اپنی گاڑی کی تیز رفتاری پر قابو نہ رکھ سکا اور رات کے پچھلے پہر، روزگار کی سختیاں جھیل کر گھر پہنچنے کی آرزو میں بائیک پر سوار، ماں کے لعل اور باپ کی آنکھوں کے تارے کو اتنی بے دردی سے ٹکر ماری کہ ایک ہی جھٹکے میں جواں اور توانا جسم کوموت کی وادی میں دھکیل دیا۔
سلیمان ماں باپ کا ہی نہیں، خاندان بھر کا لاڈلا تھا۔ وہ بچپن ہی سے بہت سلجھا ہوا، نرم دل و نرم خو، باادب و باصلاحیت بچہ تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ یوں ایک دم عین عالم شباب میں اِس دارفانی سے کوچ کر جائے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے سوا چارا کہاں؟
سلیمان کا والد، میرا سب سے چھوٹا بھائی ہے۔ مجھے وہ دن نہیں بھولتا، جب اُسے میرے ہی سکول میں داخل کروایا گیا۔ میں اپنی جماعت میں بیٹھی، اپنی پڑھائی میں محو ہوتی کہ چپکے سے وہ میری جماعت میں آکر میرے یونیفارم کی قمیض کھینچتا، تو مجھے پتہ چلتا کہ وہ میرے پہلو میں کھڑا ہے۔ میں اسے سمجھا بجھا کر اس کی جماعت میں چھوڑ آتی، مگر وہ بار بار ایسا ہی کرتا۔ شاید میری ہستی اُس کے لیے ایسی پناہ گاہ تھی، جہاں وہ ہر فکر سے آزاد ہو جاتا۔ کاش آج بھی میں اس کی وہی پناہ گاہ بن سکتی، جہاں وہ ہر فکر، ہر غم سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا۔ مگر آج میں اس کی بھیگی پلکوں پہ مسکراہٹ کا کوئی دیپ نہیں جلا سکتی۔ رات بھر چاند تاروں میں وہ اپنے لاڈلے کا چہرہ تلاش کرتا رہتا ہے اور پلک جھپکنا تو جیسے وہ بھول ہی گیا ہے۔ لاکھ صبر کی تلقین کریں، مگر صبر کرنا جاں سے گزرنا ہے۔ درد کی لہریں پورے وجود کو تڑپا کر رکھ دیتی ہیں۔ آنکھیں خشک بھی ہوں، تو من کے اندر آنسوؤں کا سیلاب امڈتا ہے جو ہر خوشی اور سکھ کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔ اے کاش میرے پاس اس کے دکھ کا مداوا ہوتا!!(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
