بورس جانسن اور قانون کی بالادستی

حیاتیات Sep 24, 2026 IDOPRESS

تحریر: وقار ملک


کسی بھی مضبوط جمہوریت کی اصل طاقت اس بات سے ظاہر نہیں ہوتی کہ اس کے حکمران کتنے طاقتور ہیں، ان کے ساتھ کتنے لوگ کھڑے ہیں یا ان کے حامی کتنی بلند آواز میں اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہیں۔ اصل امتحان اس سے کہیں سادہ ہے: کیا ایک ہی اصول سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے؟ چاہے کوئی وزیراعظم ہو، صدر ہو، وزیر ہو، سیاسی رہنما ہو یا ایک عام شہری، کسی کو بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ محض الزام کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہ دیا جائے۔ الزامات کو شواہد، عدالت اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے پرکھا جانا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بالغ جمہوریت اپنی اصل طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔


برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں کئی بحران آئے ہیں اور اس سے کچھ اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ 1963 میں پروفومو اسکینڈل ایک بڑا سیاسی بحران بن گیا اور اس نے حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ برسوں میں ڈیوڈ کیمرون نے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد استعفیٰ دیا، تھریسا مے بریگزٹ کے معاملے پر پارلیمانی تعطل ختم نہ کر سکنے کے بعد عہدے سے الگ ہوئیں، جبکہ بورس جانسن پارٹی گیٹ تنازع کے بعد بالآخر وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ لز ٹرس کی وزارت عظمیٰ صرف 44 دن جاری رہی۔ سیاسی رہنما آتے اور جاتے رہے، لیکن ادارے اپنا کام کرتے رہے۔ یہی ایک فعال جمہوریت کی اہم خصوصیت ہے کہ افراد عہدے چھوڑ سکتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہو سکتی ہیں اور سیاسی حالات بدل سکتے ہیں، لیکن آئینی نظام اپنا کام جاری رکھتا ہے فرانس میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ سابق صدر نکولا سرکوزی کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی، جبکہ سابق وزیراعظم فرانسوا فیوں کو سرکاری عہدے سے متعلق الزامات پر مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کوئی عام سیاسی شخصیات نہیں تھیں بلکہ اپنے ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہ چکی تھیں۔ اس کے باوجود ان کے عہدے انہیں قانونی کارروائی سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکے۔ لوگ کسی بھی مقدمے یا عدالتی فیصلے سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اصول یہی رہتا ہے کہ عوامی عہدہ کسی کو مستقل استثنیٰ نہیں دیتا۔


یہی بات ہمیں پاکستان اور سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق جاری تنازع کی طرف لے جاتی ہے۔ عمران خان کوئی عام سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔ وہ پاکستانی معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں اب بھی بے پناہ مقبولیت رکھتے ہیں اور ملک کے اندر اور بیرون ملک پاکستانیوں میں ان کی ایک مضبوط سیاسی حمایت موجود ہے۔ لیکن مقبولیت خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ کسی قانونی مقدمے کے نتیجے کا تعین نہیں کر سکتی۔ اسی طرح قانونی کارروائی کو سیاسی مقابلے کا متبادل بھی نہیں بننا چاہیے۔ الزام اور جرم ثابت ہونا دو مختلف چیزیں ہیں، اور کسی سزا یا عدالتی فیصلے کو شواہد، قانون اور مناسب قانونی طریقۂ کار کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس لیے بنیادی سوالات بہت سادہ ہیں: عدالت کے سامنے کیا شواہد پیش کیے گئے؟ عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟ کیا قانونی طریقۂ کار درست طور پر اختیار کیا گیا؟ اور اپیل کے لیے کون سے راستے اب بھی موجود ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ حکومتیں آئینی طریقۂ کار کے ذریعے تبدیل ہو سکتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت اپریل 2022 میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ اس عمل سے متعلق آئینی تنازع میں سپریم کورٹ بھی شامل ہوئی اور اس کے بعد نئی حکومت قائم ہوئی۔ سیاسی وابستگی سے قطع نظر اس پورے معاملے کو پاکستان کے پارلیمانی نظام کے آئینی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ سائفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس پر مضبوط سیاسی دعوے اور مختلف تشریحات سامنے آتی رہی ہیں، لیکن ان دعوؤں کو خود بخود ثابت شدہ قانونی حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت میں سیاسی الزام اور ثابت شدہ حقیقت ایک ہی چیز نہیں ہوتے عام عوامی اور سرکاری تاثر یہی ہے کہ سائفر ایک سیاسی چال تھی یہی وجہ ہے کہ بورس جانسن کے بیان کو پاکستان کی سیاست میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے جب سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ڈیلی میل میں عمران خان کی گرفتاری اور قید پر تشویش کا اظہار کیا تو وہ اپنی ذاتی سیاسی رائے کا اظہار کر رہے تھے لیکن ان کا بیان کسی پاکستانی عدالت کا فیصلہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ برطانوی حکومت کا سرکاری مؤقف تھا۔ لیکن پی ٹی آئی کے ورکرز اسے برطانیہ کا سرکاری بیان قرار دے رہے ہیں کسی بین الاقوامی سیاست دان کی جانب سے کسی دوسرے ملک کی سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ قومی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کے اصول کا احترام بھی ضروری ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی غیر ملکی سیاسی رہنما کسی برطانوی عدالت کے فیصلے کو تبدیل کرنے کا عوامی مطالبہ کرے کسی ملزم کی رہائی کا مطالبہ کرے خاص طور پر کسی برطانوی سیاست دان سے متعلق مقدمے میں۔ ایسی مداخلت یقیناً سوالات پیدا کرے گی۔ پاکستان بھی اسی احترام کا مستحق ہے۔ اگر عمران خان یا ان کی قانونی ٹیم کسی عدالتی فیصلے کو غلط یا ناانصافی پر مبنی سمجھتی ہے تو پاکستان کا اپنا قانونی نظام اپیل اور دیگر قانونی ذرائع فراہم کرتا ہے۔ بیرون ملک سے سیاسی حمایت توجہ حاصل کر سکتی ہے، لیکن وہ شواہد، قانونی دلائل یا عدالتی عمل کا متبادل نہیں بن سکتی پاکستان میں ہر شخص کو احتجاج کرنے، حکومت پر تنقید کرنے اور احتساب کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ ایک آزاد معاشرے کا حصہ ہے۔ لیکن پرامن احتجاج پرامن ہی رہنا چاہیے۔ سڑکیں بلا ضرورت بند نہیں ہونی چاہئیں، سرکاری یا عوامی املاک کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، کاروبار متاثر نہیں ہونے چاہئیں اور عام شہریوں کو سیاسی اختلافات کی قیمت نہیں چکانی چاہیے سرکاری ملازمین پر فائرنگ نہیں کرنی چاہئے اور نہ انھیں اغوا کیا جانا چاہیے 27 ستمبر کو ہونے والا کوئی بھی احتجاج پرامن اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ سیاسی مطالبات مضبوط ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں یہ ذمہ داری بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ برطانیہ، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو اظہارِ رائے، لکھنے اور سیاسی مہم چلانے کی آزادی حاصل ہے۔ ہم حکومتوں پر تنقید کر سکتے ہیں، سیاسی رہنماؤں کا دفاع کر سکتے ہیں اور پاکستان سے متعلق مسائل اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ پرامن سیاسی جدوجہد اور ایسے اقدامات میں واضح فرق ہے جو پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں، سفارتی مشنز کو خطرے میں ڈالیں یا بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی میں تقسیم پیدا کریں۔ بیرون ملک ہمارا رویہ بھی پاکستان کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔میں ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہوں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک بن سکتے ہیں۔ ہم پاکستان اور ان ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں جہاں ہم رہتے ہیں۔ ہم پاکستان کی کامیابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں، جائز مسائل اٹھا سکتے ہیں اور مکالمے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا پاکستان کا احترام کرے تو ہمیں خود بھی اس کے اداروں، قانون اور پرامن جمہوری اظہار کا احترام کرنا ہوگا۔


پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بے پناہ صلاحیت رکھنے والا ملک بھی ہے۔ پاکستان بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے، عالمی سطح پر اپنا مقام بہتر کرنے اور ایک ایسے خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں طویل عرصے سے عدم استحکام موجود ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دنیا میں پاکستان کو اجاگر کیا ہے دنیا پاکستان کی متعرف ہو چکی ہے پاکستان کے ساتھ بڑے بڑے معاہدے ہو رہے ہیں پاکستان کا تذکرہ عالمی سطح پر ہونے لگا ہے ایسے وقت میں ہمیں خود سے ایک مشکل لیکن ضروری سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں انصاف چاہتے ہیں یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری اپنی سیاسی جماعت یا ہمارا اپنا فریق جیتے؟


اگر ہم اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف احتساب کا مطالبہ کریں لیکن جب ہمارے پسندیدہ رہنما کو قانونی کارروائی کا سامنا ہو تو فوراً پورے عمل کو مسترد کر دیں، تو پھر ہم کسی اصول کا دفاع نہیں کر رہے بلکہ اپنی سیاسی وابستگی کا دفاع کر رہے ہیں۔ انصاف اس طرح نہیں چل سکتا۔ ایک ہی معیار اس شخص کے لیے بھی ہونا چاہیے جسے ہم پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے بھی جس سے ہم سخت اختلاف کرتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر عدالتی فیصلہ تنقید سے بالاتر ہے۔ عدالتوں اور اداروں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے قانونی راستے موجود ہیں۔ اپیل اسی لیے ہوتی ہے۔ شواہد کو چیلنج کیا جا سکتا ہے اور قانونی دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کا جواب بالآخر دستیاب قانونی اور آئینی راستوں کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی دباؤ یا تصادم کے ذریعے۔جمہوریت کسی ایک رہنما سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، سیاسی جماعتیں عروج و زوال کا شکار ہوتی ہیں اور عوامی رائے بھی تیزی سے بدل سکتی ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے اپنا کام جاری رکھیں اور شہریوں کو پرامن انداز میں اختلاف کرنے کا حق حاصل رہے۔ پاکستان ہر پاکستانی کا ملک ہے — ان لوگوں کا بھی جو عمران خان کے حامی ہیں، ان کا بھی جو ان کے مخالف ہیں، ان کا بھی جو موجودہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا بھی جو کسی بھی سیاسی جماعت سے اتفاق نہیں کرتے۔ہمیں اختلاف کرنے کے باوجود ایک دوسرے کا دشمن بننے کی ضرورت نہیں۔ ہم تنقید کر سکتے ہیں لیکن تباہی کے بغیر۔ ہم احتجاج کر سکتے ہیں لیکن تشدد کے بغیر۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے سیاسی مخالفین کے لیے بھی وہی معیار اپنانا چاہیے جس کی توقع ہم اپنے لیے کرتے ہیں۔کسی ملک کی طاقت صرف اس کے حکمرانوں کی طاقت یا کسی سیاسی رہنما کے حامیوں کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل طاقت اس کے اداروں کی شفافیت، شہریوں کی ذمہ داری اور اس صلاحیت میں ہوتی ہے کہ اختلافات کو خوف، تشدد اور سیاسی انتقام کے بغیر حل کیا جا سکے۔ پاکستان کا مستقبل کسی ایک فرد یا ایک جماعت سے وابستہ نہیں۔ اس کا مستقبل اس بات سے جڑا ہے کہ ہم سب ذاتی سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر ملک، آئین اور ریاستی اداروں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں آئیے پاکستان کو مضبوط کرنے کا عہد کریںُ

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں