
یہ غازی ہمارے جو سب سے جدا ہیں
یہ حیدر کے وارث یہ سیفِ خدا ہیں
عقابی ہے پرواز فولادی یہ ڈھال
پلٹ دیتے ہیں دشمنوں کی یہ ہر چال
یہ ڈالیں کمندیں ستاروں سے آگے
یہ ندیاں کنارے بہاروں سے آگے
طلب گار جامِ شہادت کے ہر دم
رقم ہوں گے قصے شجاعت کے ہر دم
سراپا محبت عطا خاکساری
عدو کے لیے سر کشاں ضربِ کاری
یہ نجمِ درخشاں، یہ شمسِ جہاں ہے
انہیں کے لیے گل زمیں آسماں ہے
کلام :ناہید گل
