
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنوبی کوریا میں ملازمت کے خواہش مند پاکستانی کارکنوں کے لیے ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (ای پی ایس) قانونی روزگار کا ایک سرکاری ذریعہ ہے، جس کے تحت منتخب پاکستانی شہری مختلف شعبوں میں ملازمت کے لیے جنوبی کوریا جاسکتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل ’’ اے آر وائی نیوز‘‘ کے مطابق پاکستان میں ای پی ایس پروگرام اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) اور جنوبی کوریا کی ہیومن ریسورسز ڈیولپمنٹ سروس آف کوریا کے باہمی تعاون سے حکومتوں کے درمیان طے شدہ طریقہ کار کے تحت چلایا جاتا ہے۔
اس کے بعد میڈیکل، ویزا، روانگی سے قبل لازمی تربیت اور دیگر قانونی کارروائی سرکاری ہدایات کے مطابق مکمل کرنا ہوتی ہے۔
فراڈ سے کیسے بچیں؟
ای پی ایس کے ذریعے جنوبی کوریا جانے کے خواہش مند افراد کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ صرف او ای سی کے سرکاری اعلانات اور مقررہ طریقہ کار پر اعتماد کریں۔
کسی نجی ایجنٹ یا فرد کی جانب سے ’پکی نوکری‘، ’بغیر امتحان انتخاب‘ یا ’فہرست میں نام ڈلوانے‘ کے دعوے پر رقم ادا نہ کریں۔ اور ادائیگیوں سے متعلق معلومات کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔
او ای سی کا ای پی ایس لنک :
https://www.oec.gov.pk/eps
کوریائی زبان اور اسکل ٹیسٹ کا سرکاری پورٹل
https://epstopik.hrdkorea.or.kr/
