
ملتان (ویب ڈیسک) صحافی احمد وڑائچ نے کہاہے کہ مسلم لیگ ن کے MPA غلام اصغر گورمانی ہاؤسنگ اسکیم فراڈ کیس میں عدالت سے اشتہاری قرار دے دیے گئے ہیں، 9 ارب روپے سے زائد کا کیس ہے، نیب ملتان میں اب تک 1800 افراد نے 6 ارب روپے کے claim جمع کرائے، ذرائع کے مطابق معزز MPA بیرونِ ملک چلے گئے ہوئے ہیں۔
ایکس پر ساتھ ہی ایک خبر کا عکس بھی شیئرکیا جس کے مطابق مبینہ فراڈ کے اشتہاری ای سی ایل میں نام نہ ہونے سے بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں، مرکزی ملزم اصغر علی گورمانی کے بعد ضمانت خارج ہوتے ہی لینڈ پرووائیڈرز اعجاز سرور اور نوید بھٹی بھی 7 جون کو ملک سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
ہاؤسنگ سکینڈل "گلبرگ ایگزیکٹو ملتان" کے غریب اور سفید پوش متاثرین نے وفاقی وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور مبینہ سہولت کاری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پریس کانفرنس کی ہے۔ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے یونین متاثرین گلبرگ ایگزیکٹو کے صدر سید اقبال حسین بخاری، چیئرمین رانا غلام مرتضیٰ اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علی رضا نے کہاہے کہ جہاں وزارت داخلہ کو عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا چاہیے تھا، وہاں اربوں روپے کا سرمایہ ہڑپ کرنے والے نوسربازوں کو مبینہ طور پر فرار کی محفوظ چھتری فراہم کی جا رہی ہے۔
متاثرین کے رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ گلبرگ ایگزیکٹو سکینڈل کا مرکزی و اشتہاری مجرم اصغر علی گورمانی، جس کے خلاف نیب (NAB) حکام نے وزارت داخلہ کو کئی بار تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ اس کا نام فوراً ای سی ایل (ECL) میں ڈالا جائے، دفتری غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فروری 2025ء میں آذربائیجان (باکو) فرار ہو گیا اور آج تک وہاں روپوش ہے۔ اس کے بعد احتساب عدالت سے عبوری ضمانتیں خارج ہونے پر اس کے دیگر تین قریبی ساتھیوں اور لینڈ پرووائیڈرز اعجاز سرور، نوید بھٹی اور قیصر اقبال کے خلاف کارروائی ہونا تھی، مگر عدالت میں پیشی سے دو دن قبل یعنی 7 جون کو دوہری شہریت کا حامل اعجاز سرور اور نوید بھٹی بھی باآسانی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 9 جون کو جب احتساب عدالت سے ان کی ضمانتیں خارج ہوئیں اور ٹیمیں گرفتاری کے لیے نکلیں، تو چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔
