
خرطوم (ویب ڈیسک)غیر سرکاری طبی امدادی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے عملے پر کم از کم 59 سوڈانی پناہ گزینوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگے ہیں، کچھ واقعات میں کم عمر لڑکیوں کا استحصال کیا گیا اور الزام ہے کہ جنسی تعلق کے بدلے خوراک یا ملازمت کی پیشکش کی جاتی تھی۔یہ جرائم سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے تقریباً ایک سال بعد مشرقی چاڈ میں 2024 میں پیش آئے تھے۔
بی بی سی کے مطابق ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس نے 18 ملزمان کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے تاہم تیظیم نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ بعض دیگر مبینہ ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔جولائی میں سامنے ایم ایس ایف کی اپنی رپورٹ کے مطابق استحصال کے ایسے طریقے اپنائے گئے جو ممکنہ طور پر ’جنسی سمگلنگ‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کچھ متاثرین نے اس خوف کے باعث خاموشی اختیار کی کہ کہیں انھیں امداد تک رسائی سے محروم نہ کر دیا جائے۔ ایم ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ جن افراد نے شکایت کی، انھیں بعض اوقات کوئی جواب یا مدد نہیں ملی، جبکہ باضابطہ شکایتی طریقہ کار زیادہ تر ناکارہ ثابت ہوا۔ایم ایس ایف نے بتایا کہ یہ غلط طرزِ عمل تنظیم کی اقدار اور ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انھیں اس سے پہنچنے والے نقصان پر گہرا افسوس ہے۔
