امریکہ کے ایران پر مسلسل 11ویں روز حملے، ٹرمپ کی زیرِ زمین جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی دھمکی

جگہ Jul 22, 2026 IDOPRESS

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ نے منگل کی شب ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے کیے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کو اپنی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔


ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ تبریز، چاہ بہار، کنارک اور بوشہر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بوشہر ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کا مقام ہے۔


ایران، جو امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کر رہا ہے، نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری مرکز کو نشانہ بنایا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔


اپریل میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم گذشتہ ہفتے یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔


سینٹکام نے کہا کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی رسد کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔


امریکی فوج نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران نے گذشتہ تین ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔


بیان میں کہا گیا کہ ’بلاجواز حملوں نے سینکڑوں بے گناہ ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور آزادانہ بحری آمدورفت کو نقصان پہنچایا۔‘


تاہم سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز اب بھی تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے۔


دوسری جانب کویت کی فوج نے بُدھ کی صبح کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ بحرین اور اردن نے بھی ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔


ٹرمپ کی نئی دھمکی


اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کا اگلا ہدف ممکنہ طور پر ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی زیرِ زمین جوہری کمپلیکس ہو سکتا ہے، جہاں ایران کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر اعلانیہ یورینیم افزودگی مرکز تعمیر کر رہا ہے۔


وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت جلد اور پوری شدت کے ساتھ اس علاقے کو نشانہ بنائیں گے۔‘


انھوں نے مزید کہا کہ وہ عام طور پر فوجی اہداف کا پہلے سے اعلان نہیں کرتے، لیکن اس معاملے میں ’وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے‘۔


ایران کی جوابی دھمکی


ایران کے خاتم الانبیاء فوجی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ ایسی کسی کارروائی کو ’خطے میں جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔


سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوجی قیادت نے کہا کہ اس صورت میں امریکہ، اس کے اتحادیوں اور حامیوں کے تمام مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔


حوثیوں کی دھمکی اور تیل کی ترسیل پر اثرات


ٹرمپ نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکہ ان سے بھی نمٹے گا۔


اس سے قبل حوثیوں کے ایک میڈیا کے عہدیدار نے اعلان کیا تھا کہ وہ باب المندب کی آبی گذرگاہ کو سعودی جہازوں کے لیے بند کر رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد بحیرہ احمر سعودی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم راستہ بن گیا ہے۔


برطانوی ادارے وینگارڈ کے مطابق حوثیوں کے اعلان کے بعد سعودی بندرگاہ ینبع سے چین اور انڈیا کے لیے خام تیل لے جانے والے دو ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔


ماہرین کے مطابق حوثیوں کی دھمکیاں عالمی جہاز رانی کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی پہلے ہی عالمی ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن چکی ہے۔


آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں