
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن )ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے مہر نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وفد کے ساتھ ہونے والے سخت اور کشیدہ مذاکرات کے احوال سے پردہ اٹھایا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ہونے والے تلخ مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے امریکی وفد سے سوال کیاکہ ’’کیا آپ کبھی کسی ایسی میٹنگ میں بیٹھے ہیں جہاں ہر لمحہ یہ ڈر ہو کہ پورا اجلاس بمباری کا نشانہ بن سکتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی فیملی سے فون پر بات کرتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ یہ گفتگو آپ کی آخری ثابت ہو سکتی ہے؟
امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی فوجی دھمکیوں کو رد کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہاکہ یہ وینیزویلا نہیں ہے جہاں ایک شخص کو ہٹا دینے سے پورا نظام خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جائے گا۔ ایران کا نظام کسی ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ مضبوط اور ڈی سینٹرلائزڈ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھمکی صرف اس کو دی جا سکتی ہے جو ڈرتا ہو، لیکن جب ایرانی نمائندے ہر لمحہ شہادت یا حملے کے لیے تیار رہتے ہیں، تو انہیں کسی حملے کی دھمکی سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔
