فائل کے بند ہونے کے باوجود اس کے صفحات خود بخود پلٹنے لگے،دہ خانے کی چھت خشک تھی۔ پانی آ کہاں سے رہا تھا؟”پیچھے مڑ کر مت دیکھنا“

ٹیک Sep 24, 2026 IDOPRESS

مصنف: ارشادالعصر جعفری


قسط:19


لاؤڈ اسپیکر خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد پورے اسپتال پر ایک ایسی خاموشی چھا گئی جس میں ہر معمولی آواز غیر معمولی محسوس ہونے لگی۔ دور کہیں پانی کی ایک بوند گری، پھر دوسری، پھر تیسری --- مگر عجیب بات یہ تھی کہ مردہ خانے کی چھت خشک تھی۔ پانی آ کہاں سے رہا تھا؟


عبدالودود نے آہستہ سے فائل سلمان کے ہاتھ سے لے لی۔ ”یہاں نہیں، اسے یہاں نہیں پڑھ سکتے۔“


”کیوں؟“


”کیونکہ یہ صرف کاغذ نہیں ہے، یہ گواہ ہے۔ کچھ چیزیں صرف واقعات محفوظ نہیں کرتیں، وہ انہیں یاد بھی رکھتی ہیں۔“


اسی لمحے فائل کے بند ہونے کے باوجود اس کے صفحات خود بخود پلٹنے لگے --- فڑررر، فڑررر، فڑررر --- کسی نے اسے ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ اچانک صفحات ایک جگہ آ کر رک گئے۔ تینوں کی نظریں بے اختیار اس صفحے پر جم گئیں۔ اوپر موٹے حروف میں لکھا تھا: معاہدہ نمبر اوّل۔ نیچے صرف ایک سطر: ”اگر وہ تمہیں دیکھ لے، تو پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔“


سلمان بے اختیار مسکرا دیا۔”یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ اگر کوئی پیچھے ہو گا تو آدمی مڑے گا ہی۔“


عبدالودود نے اس کی طرف اس انداز سے دیکھا کہ سلمان کی مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔ ”اسی لیے آج تک کوئی اس معاہدے کی وجہ نہیں جان سکا۔ کیونکہ جو مڑ کر دیکھتا ہے، وہ واپس آ کر بتاتا نہیں۔“


اسی لمحے مردہ خانے کی دیوار پر نصب پرانی گھڑی، جو برسوں سے بند تھی، ایک بار چلنے لگی --- ٹک، ٹک، ٹک --- مگر اس کی سوئیاں آگے نہیں بڑھ رہی تھیں، وہ الٹی سمت میں گھوم رہی تھیں۔ زاور نے آہستہ سے کہا: ”وقت واپس جا رہا ہے؟“


عبدالودود نے نفی میں سر ہلایا۔ ”نہیں، وقت کبھی واپس نہیں جاتا۔ صرف کچھ جگہیں وقت کو چھوڑ دیتی ہیں۔“


یہ الفاظ ابھی ختم بھی نہ ہوئے تھے کہ مردہ خانے کے آخری کونے سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی --- خشک، کمزور، بوڑھی کھانسی۔ تینوں نے ایک ساتھ ٹارچوں کا رخ اس طرف کیا۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی، خالی، لیکن آہستہ آہستہ ہل رہی تھی، جیسے ابھی ابھی کوئی اس سے اٹھا ہو۔ سلمان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، عبدالودود نے فوراً اس کا بازو پکڑ لیا۔ ”مت جاؤ۔“


”اب کیا ہوا؟“


عبدالودود نے جواب دینے کے بجائے کرسی کے نیچے اشارہ کیا۔ ٹارچ کی روشنی نیچے پڑی --- دھول کی موٹی تہہ، اور اس پر صرف ایک جوڑی قدموں کے نشان، جو کرسی تک آتے تھے مگر واپس جانے والے کوئی نشان موجود نہیں تھے۔ کمرے میں کسی نے کچھ نہ کہا، خاموشی خود ایک سوال بن کر ان کے درمیان کھڑی تھی۔


زاور نے محسوس کیا کہ اس کی جیب میں رکھا کانسی کا سکہ ہلکا سا گرم ہونے لگا ہے۔ اس نے جلدی سے نکال کر دیکھا --- اس پر بنی ہوئی مخلوق پہلے سے مختلف تھی، اس کی آنکھیں، جو پہلے محض نقش تھیں، اب سیاہی سے بھری ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ اس نے سکہ عبدالودود کی طرف بڑھایا۔ عبدالودود نے ایک نظر ڈالی، اور پہلی بار اس کے چہرے پر ایسا خوف ابھرا جسے وہ چھپا نہ سکا۔ ”نہیں، یہ تو نہیں ہونا چاہیے تھا۔“


(جاری ہے)


نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں