
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ظالمانہ نظام نافذ ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیئے جاتے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ہے، جب آپ تعلیم اور صحت کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں تو کیسے نظام چلے گا، تعلیم کی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کم کر دیا ہے، اگر تعلیم پر بجٹ مختص بھی ہے تو خرچ نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوام کو کچھ نہیں ملا، بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہیں کرتا، عام آدمی 60 فیصد ٹیکسز دے رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا چاہیے، پی ایس ڈی پی میں ایم این ایز کے فنڈز کو ختم کیا جائے۔
