تیکھے نقوش اور اپنی دھان پان سی شخصیت کے باعث گڑیا ہی نظر آتی، فطری سادگی اور معصومیت کے باعث، ہر جانے انجانے کی بات پر یقین کر لیتی

حیاتیات Jun 30, 2026 IDOPRESS

مصنف: یاسمین پرویز


قسط:28


تلاشِ منزل


گڑیا کا اصل نام تو شہلا تھا، مگر اپنے پرائے سبھی اُسے گڑیا پکارتے۔ اصل نام تو کسی کے ذہن میں بھی نہیں رہا تھا۔ یوں بھی وہ تیکھے نقوش اور اپنی دھان پان سی شخصیت کے باعث گڑیا ہی نظر آتی۔ اپنی فطری سادگی اور معصومیت کے باعث، ہر جانے انجانے کے منہ سے نکلی ہر بات پرمن و عن یقین کر لیتی۔


میٹرک کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا، تو ہر طرف واہ واہ ہونے لگی۔ ابھی اس خوشی میں مگن، کالج میں داخلہ لینے کا خواب آنکھوں میں سجائے، ہواؤں کے دوش پہ سوار اُڑتی چلی جا رہی تھی کہ یکدم ایک ہی دھچکے سے زمین پہ آ گِری۔ والدین نے اُس کے خالہ زاد اسد سے اُس کا رشتہ طے کرکے رُخصتی کی تاریخ بھی مقرر کر دی۔ رسماً اس کی رضامندی بھی پوچھی گئی، مگر اس میں انکار کی جرأت کہاں تھی؟ سو جلد ہی وہ رخصت ہو کر سسرال آ گئی۔


سُسرال کا ماحول اگرچہ ماں باپ کے گھر سے زیادہ مختلف نہ تھا مگر پھر بھی نئے رشتوں کو تسلیم کرنے میں، خاصا وقت لگا۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے اسے اوپر تلے 2بیٹوں سے نواز دیا۔ مصروفیت میں اگرچہ اضافہ ہوا، مگر دل کے بہلنے کا سامان بھی میسر آ گیا۔ سو وقت اچھا گزرنے لگا۔ گھر کے مکینوں سے بھی اب وہ خاصی گھل مل گئی تھی۔ اس کے علاوہ مالی پریشانی بھی نہیں تھی۔ سو زندگی اطمینان سے بسر ہونے لگی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ بہت جلد سب کچھ یکدم بدل جائے گا۔


اسد اچھا بھلا دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ سینے میں درد کی شکایت کی۔ فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا، مگر زندگی نے وفا نہ کی۔ شہلا نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یکدم زندگی ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کرے گی جہاں تاریکی کے سوا کچھ نہ تھا۔ میکے اور سسرال والوں نے اس مشکل وقت میں اگرچہ بہت سنبھالا مگر اسد کی کمی نے اس کی زندگی کو یکسر بدل دیا تھا۔ یوں جیسے چلچلاتی دھوپ میں راہرو کے سر سے سائبان چھن جائے۔


بچے سکول جانا شروع ہوئے تو اس نے سوچا کہ اب اُسے بھی اپنی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ مگر نہ تو تعلیم زیادہ تھی اور نہ ہی کوئی ہنر ہاتھ میں تھا۔ سو یہ خیال پچھتاوا بن گیا کہ کاش اس نے اپنی تعلیم ہی مکمل کر لی ہوتی۔ مگر اب پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ بہت سوچ و بچار کے بعد اس نے ملنے جلنے والوں کی مدد سے گھر میں تیار کردہ کھانے کے آرڈرلینے شروع کر دیئے اور پھر آہستہ آہستہ یہ کام بڑھنے لگا۔ سو دن رات اسی کام میں بسر ہونے لگے اور یوں اسے تن من کا ہوش نہ رہا۔


بچے کالج میں پہنچے تو اسے اپنی منزل قریب آتی دکھائی دی مگر انتھک محنت اور پریشانیوں نے اسے اپنے گھیرے میں یوں لیے رکھا کہ جواں سالی میں ہی وہ سَن رسیدہ نظر آنے لگی۔


بچے تعلیم سے فارغ ہوئے تو اس نے سکھ کا سانس لیا۔ بہت جلد انہیں نوکریاں بھی مل گئیں اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی زندگی میں درپیش مشکلات کے خاتمے کا وقت آن پہنچا۔ سو بہت جلد اس نے انہیں رشتہ ازدواج کے بندھن میں بھی باندھ دیا۔ شاید اس عمل کے پیچھے یہی خواہش کارفرما تھا کہ اب بچے گھر کی ذمہ داری اٹھائیں گے اور وہ سکھ کا سانس لے گی۔ سفر اگرچہ طویل اور صبرآزما تھا مگر ہمت کے سہارے کٹ ہی گیا۔


بہوؤں نے پہلے پہلے تو گھر کی ذمہ داریاں اٹھائیں، مگر پھر اُن کے تیور بدلنے لگے۔ خاص طور پر ساس کا وجود ان کی نگاہوں میں کھٹکنے لگا۔ سو پہلے بڑی بہو نے اور پھر چھوٹی بہو نے سسرال کو خیرباد کہا اور علیٰحدہ گھر میں منتقل ہو گئیں۔ شہلا نے بہت منت سماجت کی کہ وہ انہیں اکیلا چھوڑ کر نہ جائیں، بیٹوں کے سامنے بھی فریاد کی، مگر شنوائی نہ ہوئی۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں