
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق محسن رضائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’48 گھنٹے قبل ہم نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا تجربہ کیا۔ اس مخصوص میزائل نے امریکیوں کے لیے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہو گئے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے اس دعوے پر براہِ راست کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم گزشتہ روز ایکس پر ایک پوسٹ میں اس نے بظاہر اپنے دو بحری جہازوں پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے اگر آپ ہمارے دو بحری جہازوں پر فائر کریں گے تو ہم آپ پر کہیں زیادہ بھاری معاشی لاگت عائد کریں گے اور آپ کے تین بحری جہاز تباہ کر دیں گے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’ہم امریکی افواج کے دفاع سے دریغ نہیں کریں گے اور ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود اور کمزور ٹینکر بیڑے کو تباہ کر دیں گے۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر نے اس علاقے میں بحری آمدورفت کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کہا کہ ”خلاف ورزی کرنے والے وہ بحری جہاز جو ایران کے ساتھ رابطہ کیے بغیر کارروائی کریں گے، ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہوں گے اور انہیں انشورنس کے مسائل اور بعد میں گزرنے میں مشکلات سمیت دیگر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔“
