پروجیکٹر کے اندر تیز روشنی اور عدسہ استعمال کیا گیا، تصویر اندھیرے کمرے میں سامنے پردے پر بڑی نظر آتی، یہ گویا دنیا کا پہلا سینما ہال تھا

سافٹ ویئر Jul 22, 2026 IDOPRESS

مصنف: محمد سعید جاوید


قسط:18


فلم وہاں سے گزرنے کے بعد پروجیکٹر سے باہر نکلتی اور اوپر لگی ہوئی ایک خالی ریل پر لپٹنا شروع ہو جاتی تھی۔ تکنیکی طور پر اس وقت کیمرے کا شٹر ہی پروجیکٹر کا شٹر بھی بن جاتا تھا۔ یہ شٹر تیزی سے پروجیکٹر کی روشنی والی کھڑکی کے سامنے گھومتا ہے،جیسے ہی ایک تصویری فریم آگے بڑھ کر کھڑکی کے سامنے رکتا، تب ہی شٹر اپنا چکر پورا کر کے آتا اور کھڑکی کے سامنے سے ہٹ جاتا۔ اور روشنی اس فریم پر پڑنا شروع ہوجاتی اور سامنے پردے پرتصویر نظر آنا شروع ہو جاتی۔ اور پھر یہ شٹر گھومتا ہوا آگے بڑھتا تو اس کا بند حصہ روشنی والی کھڑکی کے سامنے آجاتا اور روشنی بند ہو جاتی۔ اسی مختصر سے وقفے کے دوران اگلا فریم آگے آجاتا اور یہ چکر دوبارہ شروع ہو جاتا۔ یہ کام بہت تیز رفتاری سے ہوتا تھا اور اس کی رفتار بھی 16 فریم فی سیکنڈ ہی ہوتی تھی۔یعنی ایک سیکنڈ میں شٹر 16 مرتبہ کھلتا اور بند ہوتا تھا۔ فلم کے پیچھے لگے ہوئے بلب کی تیز روشنی حرکت کرتی ہوئی فلم کی پٹی کے اندر سے گزر کرتصویر کا عکس سامنے لگے ہوئے ایک بڑے سے محدب عدسے پر ڈالتی، جس سے تصویر بڑی ہو کرہال میں سامنے نصب پردے پر نظر آتی تھی۔ گویا اس کا ابتدائی خاکہ وہی ایڈیسن کے کائنیٹوگراف والا ہی تھا مگر اس میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں کی گئیں تھیں:


کائنیٹو اسکوپ کے برعکس، جہاں فلم کی ایک ہی پٹی بار بار گھوم پھر کر عدسے کے سامنے آتی تھی، یہاں چلائی گئی فلم ایک چرخی سے اتر کر سارے نظام میں سے گزرتی ہوئی دوسری خالی ریل پر چڑھ جاتی تھی۔ اس طرح بار بار مختلف فلموں کی ریلیں اوپر لگائی جاسکتی تھیں۔ لومیئر برادرز نے ایک شو کے لیے دس بارہ مختصر سی فلموں کی ریلیں بنا کر رکھی ہوئی ہوتی تھیں، اور باری باری انہیں چلاتے رہتے تھے۔


چونکہ پروجیکٹر کے اندر تیز روشنی اور بڑی طاقت کا عدسہ استعمال کیا گیا تھا اس لیے تصویر اندھیرے کمرے میں سامنے پردے پر بہت واضح اور بڑی نظر آتی تھی۔ جس کو پردے کے سامنے نشستوں پر بیٹھ کر دیکھا جاتا تھا۔ یہ گویا دنیا کا پہلا سینما ہال تھا۔


اپنی اس مشین کو انہوں نے سینماٹو گراف (Cinematograph)کا نام دیا۔ انہوں نے اس کیمرے سے سب سے پہلے حرکت کرتی ہوئی جو فلم بنائی وہ ان کی فیکٹری کیمرکزی دروازے سے باہر نکلتے ہوئے ملازمین کی تھی جو اپنی شفٹ مکمل کر نے کے بعد چھٹی کر کے گھر جا رہے تھے۔ انہوں نے عین اس وقت مرکزی دروازے کے سامنے اپنا کیمرہ رکھ کر چلادیا جس سے باہر نکلتے ہوئے فیکٹری ملازمین کی فلم بندی ہوگئی۔ اور پھر جب اس فلم کو دھو کر اسی کیمرے میں لگے ہوئے پروجیکٹر سے سامنے لگے ہوئے پردہ پر چلایا گیا تو حاضرین سکرین پر چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھ کر خوشی سے بے حال ہو گئے اور بے خود ہو کر خوب تالیاں پیٹیں۔ یہ بہت ہی مختصر یعنی محض 2 منٹ کی فلم تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ان کا یہ کیمرہ بھی ایک سیکنڈ میں 16 فریم بناتا تھا۔ اور جب اس فلم کو اسی رفتار سے پروجیکٹر پر چلایا گیا تو اس میں کرداروں کی حرکت بہت تیز نظر آتی تھی جو قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی سی لگتی تھی اس میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سب تیز تیز قدموں سے بھاگے جا رہے ہوں۔ اس سے پہلے مختلف تجربات کے نتیجے میں یہ طے پا گیا تھا کہ انسانی آنکھ کے سامنے سے اگر ایک سیکنڈ میں کم از کم 24 فریم یا تصویریں گزریں تو تب دماغ میں یہ تاثر جاتا ہے کہ یہ ایک قدرتی منظر ہے کیونکہ اس فلم میں کردار معمول کے مطابق حرکت کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن انہوں نے ابھی تک پرانا یعنی 16 فریم فی سیکنڈ کا معیار رکھا تھا۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں