
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:5
حصہ اوّل(تصویر کشی،فلم بندی اور سینما کاآغاز)
باب1
ابتدائی تصویر کشی، ساکت عکاسی
ایک روایت کے مطابق پہلے کیمرہ کا تصور کوئی 1100برس قبل مسلمان سائنسدان ابن الہیثم نے پیش کیا تھا جو آگے چل کر حقیقت کا روپ دھار گیا۔ وہ ایک بہت عظیم سائنسدان،طبیعات، علم الحساب اوربصری علوم کا ماہر تھا۔ اس سے قبل مغربی سائنسدانوں کا خیال تھا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر سامنے اشیاء پر پڑتی ہے جس سے وہ نظر آتی ہیں،جب کہ اس کا کہنا تھا کہ یہ تصویر سامنے نہیں بلکہ ایک شفاف شیشے یعنی کورنیا اور پْتلی سے گزر کر آنکھ کے پیچھے جا کر ایک پردے پر بنتی ہے اس پردے کو ریٹنا اور آنکھ کی پتلی کو عدسے کا نام دیا۔ واضح رہے کہ اس کے دیئے ہوئے یہ نام اور نظریہ آج تک مستعمل ہیں۔تاہم اس بات کو اس کے ہم عصر ماننے کو تیار نہیں تھے اور اس کے اس دعوے پر ان کی آپس میں بحث وتکرار بھی چلتی رہتی تھی اور اس کا مذاق بھی اڑایا جاتا تھا۔ ابنِ الہیثم نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ وہ اس نظریہ کو عملی طور پر ثابت بھی کرکے دکھائے گا۔ اور اسی سلسلے میں وہ نت نئے تجربات کرتا رہتا تھا، کبھی آنکھیں بند کرتا اور پھر آہستہ آہستہ کھولتا تھا، یوں بھی ہوتا کہ وہ گھپ اندھیرے سے نکل کر یک دم چلچلاتی دھوپ میں نکل آتا اور چمچماتی آنکھوں سے اِدھر اْدھر دیکھتا۔ مٹھیوں سے دور بین بنا کر دور تک دیکھنے کی کوشش بھی کرتا رہتا تھا۔ ایک روز وہ اچھا خاصا درخت کے نیچے عالم استغراق میں بیٹھا ہوا تھا، اللہ جانے اس کے ذہن میں کیا خیال آیا کہ اس نے سامنے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے کمرے کی دیوار میں کیل سے آر پار ایک باریک سا سوراخ کیا اور پھر خود اس کمرے کے اندر گھس گیا اور کھڑکیاں دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور جن جگہوں سے تھوڑی بہت روشنی بھی آرہی تھی ان کو بھی ڈھک کے اندر گھپ اندھیرا کر لیا۔ اور پھر جب اس نے کمرے کے سامنے کی سفید دیوار کی طرف دیکھا تو وہ حیران رہ گیا کہ اس سوراخ میں سے جو روشنی چھن چھن کرتی اندر آرہی تھی اس نے سامنے دیوار پر نہ صرف اس بڑے درخت کی، بلکہ باہر بنی ہوئی عمارت اور وہاں پڑی ہوئی ہر شے کی دھندلی سی شبیہ بنا دی تھی،لیکن بدقسمتی سے ہر چیز کی یہ تصویر الٹی بنی ہوئی تھی۔ درخت کی چوٹی نیچے اور تنا اوپر، اسی طرح قریب ہی پڑا ہوا پانی کا گھڑا بھی سر اٹھانے کے بجائے سر جھکائے پڑا تھا۔ سامنے بڑی عمارت کے گنبد نیچے لٹک رہے تھے جبکہ فرش اوپر تھا۔ ابن الہیثم کو اس کام میں اتنا مزہ آیا کہ اس نے مختلف اشیاء باہر رکھ کر اندر جاکر ان کا نظارہ کیا لیکن ہر بار اس نے دیکھا کہ یہ شبیہ ہمیشہ الٹی ہی نظر آئی۔ اس کو اس وقت تو کچھ سمجھ نہ آیا تاہم اس نے فوراً یہ انوکھا واقعہ بطور حوالہ اپنی ڈائری میں لکھ لیا۔ چونکہ اسے حساب اور طبیعات کی شْد بْد بھی تھی لہٰذا اس نے اپنے طور پر کچھ فارمولے لگائے اور پھر ان کے مطابق شیشے کے عدسے بنائے اور ان کو باری باری سوراخ میں سے آتی ہوئی روشنی کے سامنے رکھ کر دیکھا تو اس کی حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ دیوار پر بننے والی تصویر نہ صرف سیدھی ہوگئی تھی بلکہ اب وہ قدرے صاف بھی نظر آنے لگی تھی۔ بعد ازاں اس نے کمرے کے بجائے لکڑی کے بڑے ڈبے میں یہ تماشہ لگا کر دیکھا تو نتائج اور بھی شاندار نکلے۔ جس سے اس کا آنکھ کی ساخت والا نظریہ تو ثابت ہو گیا۔ اس نے اپنی اس تحقیق کے بارے میں مخالفوں کو للکارا اور اچھی خاصی بحث اور مباحثہ کے بعد انھیں لاجواب کر دیا۔ لیکن یہ صرف ایک ایسی تصویر تھی جو نظرتو آتی تھی لیکن اس کو محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ اس کے پاس نہ تھا۔بس وہیں اسے موقع پرہی دیکھا سکتا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
