اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آئیں لیکن انہوں نے اسلام آباد آنے کے لیے ایک شرط بھی رکھی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مارننگ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ میرے پاس یکم اپریل کو ہی یہ خبر آ گئی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں لیکن معاملے کی حساسیت کے باعث یہ مسئلہ پیش آ رہا تھا کہ خبر چلائیں تو کیسے چلائیں کیونکہ اگر ہم یہ خبر اس وقت بریک کر دیتے تو ایک طوفان برپا ہو جاتا اور پھر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والے عوامل سرگرم ہو جاتے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے تو بہت کھل کر کہا ہے کہ امریکی مجھے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے رپورٹ کر رہے تھے، اور واشنگٹن میں جو لبنان کے حوالے سے مذاکرات ہو رہے ہیں انہیں حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے جبکہ لبنان حکومت میں حزب اللہ کے پاس دو وزارتیں موجود ہیں اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنان میں مسلکی اختلافات پیدا کیے جائیں اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہم حزب اللہ کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، اس لیے اس معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی ایکشن لینا ہوگا اور انہیں نیتن یاہو کو بتانا ہوگا کہ میں آپ سے ڈکٹیشن لینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
