
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، کراچی میں زمینوں کے کنورژن پر سپریم کورٹ کا حکم واپس لے لیاگیا،سپریم کورٹ کاغیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم بھی واپس لے لیا،سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز قراردیدیاگیا۔نسلہ ٹاور مسمار کرنے کا سبب بننے والے احکامات واپس لے لئے گئے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق فیصلے میں کہا گیاہے کہ بلڈنگ قوانین صوبائی حکومت کا اختیار ہے، عدالتوں کا نہیں، ایس بی سی اے اور صوبائی حکومت غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کی پابند ہیں،سپریم کورٹ نے ایک بلڈنگ کا کیس پورے کراچی تک پھیلا دیا، سپریم کورٹ نے غیرقانونی شادی ہالز اور مارکیٹس مسمار کرنے کا حکم دیا،سپریم کورٹ نےآئینی تقاضے پورے کئے بغیر اپیل میں سوموٹو اختیار استعمال کیا،فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ کراچی ماسٹر پلان کیخلاف تعمیرات مسمار کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا، صرف ایس بی سی اے رپورٹ پرتعمیرات مسمار نہیں کی جا سکتیں،ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسے مکمل قانونی عمل سے گزارا جائے،وفاقی آئینی عدالت غیرقانونی تعمیرات کو جائز قرار نہیں دے رہی،غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کیلئے قانونی طریقہ موجود ہے،سپریم کورٹ کے تمام احکامات واپس لے کر کیس نمٹایا جاتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہاکہ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں،عدالتیں غیرقانونی معاملات میں مداخلت نہ کریں،جسٹس سید ارشد حسین کا اضافی نوٹ بھی تحریری فیصلے میں شامل ہے،اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، جسٹس سید ارشد حسین نے کہاکہ عوامی مقامات کو غیرقانونی قبضوں سے محفوظ رکھا جائے۔
