
لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے اراکینِ اسمبلی کی مراعات سے متعلق منظور کیے گئے بل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل رات کی تاریکی میں منظور کیا گیا اور عوام سے اس کی حقیقت چھپانے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ روز تک تحریک انصاف کے ترجمان اس بل کے وجود سے ہی انکار کرتے رہے، لیکن اب حقیقت سب کے سامنے آ چکی ہے۔ عوام کو گمراہ کرنا اور پھر اپنے مؤقف سے مکر جانا تحریک انصاف کی پرانی روایت ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان یہ تاثر دیتے رہے کہ بلیو پاسپورٹ کی سہولت تمام صوبوں کے اراکین اسمبلی کو حاصل ہے، حالانکہ یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ پنجاب میں اراکینِ اسمبلی کو صرف اپنی مدتِ رکنیت کے دوران محدود نوعیت کا سرکاری پاسپورٹ دیا جاتا ہے، جو صرف متعلقہ رکن کے لیے ہوتا ہے، اس کی فیملی اس سہولت کی حقدار نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف ایک طرف اشرافیہ کے خلاف نعرے لگاتی ہے، جبکہ دوسری طرف خود اشرافیہ سے بھی بڑھ کر مراعات اپنے لیے حاصل کرنا چاہتی ہے۔15 برس سے خیبرپختونخوا میں حکومت کرنے کے باوجود نہ دہشت گردی پر قابو پایا گیا، نہ روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئی، لیکن اس کے باوجود اپنے لیے بادشاہوں جیسی مراعات کا مطالبہ کھلی منافقت ہے۔
